HisabCalc

ٹائل کیلکولیٹر

کمرے کے پیمانے اور ٹائل کے سائز سے کتنی ٹائلیں اور کتنے بکس چاہیے۔

اپنے اعداد لکھیں

مثال: 5

مثال: 4

مثال: 60

مثال: 60

مثال: 10

مثال: 4

نتیجہ
واٹس ایپ پر بھیجیں

حساب آپ کے فون ہی میں ہوتا ہے؛ کہیں بھیجا نہیں جاتا۔

فارمولا

room area × (1 + wastage) ÷ tile area, rounded up to whole boxes

حساب کیسے ہوتا ہے

کمرے کا رقبہ = لمبائی × چوڑائی، اور ٹائل کا رقبہ = اس کے دو کنارے میٹر میں، اس لیے 60 × 60 سینٹی میٹر ٹائل 0.36 مربع میٹر ہے۔ کمرے کے رقبے میں ضائع ہونے کا فیصد جوڑ کر ٹائل کے رقبے سے تقسیم کیا جاتا ہے: ضائع کمرے اور بچھانے کے پیٹرن کا ہے، ٹائل کا نہیں — اس لیے فرش میں جڑتا ہے، ہر ٹائل میں نہیں۔

ٹائلیں اوپر کی طرف پوری کر کے بکسوں میں بانٹی جاتی ہیں، پھر پورے بکسوں میں پوری کی جاتی ہیں، کیونکہ بکری بکسوں میں ہوتی ہے۔ ایک اضافی بکس جان بوجھ کر رکھا جاتا ہے: سال بعد ٹائل ٹوٹے تو اسی بیچ کی ٹائل ہونے پر ہی ملان ہو سکتا ہے۔

عام غلطیاں

کب استعمال کریں

حل شدہ مثال

5 × 4 میٹر کمرے میں 60 × 60 سینٹی میٹر ٹائل، 10% ضائع — 62 ٹائلیں، 4 کے 16 بکس۔

کمرے کا رقبہ (مربع میٹر) 20.00
ٹائل کا رقبہ (مربع میٹر) 0.36
مطلوبہ ٹائلیں 62
بکس 16
خریدنے کی ٹائلیں 64

عام سوالات

10% ضائع کیوں؟

کیونکہ کونوں اور کناروں پر ٹائل کاٹنی پڑتی ہے، اور کاٹتے وقت کچھ ٹوٹتی ہیں۔ سیدھے کمرے میں 5-10% کافی ہے، مگر ترچھے یا ڈائمنڈ پیٹرن میں 15% تک لگ سکتا ہے — پیٹرن مشکل ہو تو فیصد بڑھا دیں۔

ایک ہی بیچ کی ٹائل کیوں ضروری؟

ایک ہی رنگ کے نام پر بھی بیچ کے حساب سے ٹائل کا رنگ الگ ہو سکتا ہے۔ اس لیے تھوڑا زیادہ خریدنے سے بعد میں ٹائل ٹوٹنے پر اسی بیچ کی ٹائل ملانا آسان ہوتا ہے — یہی بچا بکس کام آتا ہے۔

آخری اپ ڈیٹ: 2026-10-02